مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: 7 اکتوبر 2023ء فلسطین اور غاصب صیہونی حکومت کی تبدیلیوں کے کیلنڈر میں محض ایک تاریخ نہیں ہے؛ بلکہ یہ وہ نقطہ ہے جس کے بعد خطے کے متعدد سکیورٹی اور سیاسی معادلات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے۔ «طوفان الاقصیٰ» آپریشن کا آغاز حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی کے اطراف غاصب صیہونی فوجی ٹھکانوں اور بستیوں پر بڑے پیمانے پر حملے سے ہوا اور اس کے بعد ایسی جنگ کا آغاز ہوا جس کا دائرہ غزہ سے آگے بڑھ کر خطے کے مختلف محاذوں تک پھیل گیا۔
اس کارروائی کی اہمیت کو صرف اس کے فوجی پہلوؤں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ طوفان الاقصیٰ ایسے حالات میں رونما ہوا جب فلسطین کا مسئلہ، کئی دہائیوں کے قبضے، بستیوں کی تعمیر، غزہ کے محاصرے اور قدس و مسجد الاقصیٰ سے متعلق پیش رفت کے باوجود، سفارتی عمل اور علاقائی سیاسی معادلات کے درمیان گھرا ہوا تھا۔ 7 اکتوبر کی کارروائی نے اس صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور فلسطین کے مسئلے کو ایک بار پھر خطے کی پیش رفت اور دنیا بھر کے عوامی افکار کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
لیکن اس تبدیلی کا ایک اہم ترین پہلو اس کارروائی اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے حوالے سے مزاحمتی محاذ کا ردعمل تھا اور یہی وہ مقام ہے جہاں شہید سید حسن نصرالله کا کردار خصوصی اہمیت اختیار کرتا ہے۔
نصرالله طوفان الاقصیٰ کی منصوبہ بندی میں شامل نہیں تھے؛ لیکن اس کی حمایت میں ڈٹ گئے

طوفان الاقصیٰ کے تاریخی جائزے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ کارروائی کی منصوبہ بندی و انجام دہی اور اس کے آغاز کے بعد اس کی حمایت کے درمیان فرق کیا جائے۔
شہید سید حسن نصرالله نے جنگ شروع ہونے کے بعد 3 نومبر 2023 کو اپنی پہلی تقریر میں واضح طور پر اعلان کیا کہ 7 اکتوبر کی کارروائی مکمل طور پر فلسطینی کارروائی تھی اور حزب الله کو اس کے نفاذ کے درست وقت کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی انتہائی رازداری کے ساتھ تیار کی گئی تھی۔ بعد میں مزاحمتی محور سے وابستہ بعض عہدیداروں نے بھی اس مؤقف کو دہرایا۔ یہ حقیقت نصرالله کے کردار کو کم اہمیت نہیں بناتی؛ بلکہ ایک اہم زاویے سے اسے مزید اہم بناتی ہے۔
وہ طوفان الاقصیٰ کے منصوبہ ساز نہیں تھے، لیکن کارروائی شروع ہونے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ لبنان کے محاذ کو فلسطینی مزاحمت کی حمایت کے لیے فعال کیا جائے۔
حزب الله 8 اکتوبر سے اسرائیل کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں داخل ہو گئی اور شہید نصرالله نے بعد میں واضح کیا کہ یہ گروہ اسی دن سے «جنگ» میں شامل ہو گیا تھا۔ اعلان کردہ مقصد یہ تھا کہ غزہ پر فوجی دباؤ صرف ایک محاذ تک محدود نہ رہے اور اسرائیل کو اپنی فوجی صلاحیت کا ایک حصہ شمالی سرحدوں پر تعینات کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اس طرح غزہ میں 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی صورتحال 8 اکتوبر کو ایک کثیر محاذی معادلے میں تبدیل ہو گئی۔
نصرالله کا فیصلہ؛ فوری طور پر ہمہ گیر جنگ میں داخل ہوئے بغیر حمایت
جنگ کے ابتدائی مہینوں میں سید حسن نصرالله کے طرزِ عمل کی اہمیت اسی مقام پر تلاش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے ایک طرف فلسطینی مزاحمت کی حمایت اور غزہ کے ساتھ کھڑے ہونے کو اصول قرار دیا اور دوسری جانب حزب الله کی شمولیت کو اس انداز میں منظم کیا کہ فلسطین کی حمایت اور لبنان میں تنازع کی ہمہ گیر جنگ میں تبدیل ہونے کے خطرے کے درمیان توازن برقرار رہے۔
شہید نصرالله نے 3 نومبر 2023 کی تقریر میں اعلان کیا کہ لبنان کے محاذ پر تمام امکانات کھلے ہیں اور اس محاذ کا انجام غزہ کی پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے حزب الله کے تنازع میں داخل ہونے کے مقاصد میں سے ایک مقصد اسرائیل پر دباؤ ڈالنا اور اس حکومت کی فوجی طاقت کے ایک حصے کو شمالی محاذ پر مصروف رکھنا بھی قرار دیا۔
اسی روایت کے مطابق، حزب الله کی غزہ کے لیے حمایت محض ایک سیاسی مؤقف کا اعلان نہیں تھی؛ بلکہ لبنان کا محاذ کھلنے کے ساتھ ہی جنگ غزہ کے دائرے سے باہر نکل گئی اور اسرائیل کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس میں اسے اپنی فوجی منصوبہ بندی میں بیک وقت کئی محاذوں کو مدنظر رکھنا پڑا۔
اس زاویے سے شہید سید حسن نصرالله کے کردار کو «طوفان الاقصیٰ» اور «طوفان کے بعد علاقائی جنگ» کے درمیان موجود فاصلے میں دیکھا جا سکتا ہے: ایک ایسی کارروائی جو غزہ میں اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے ذریعے تیار کی گئی، لیکن اس کے آغاز کے بعد پورے مزاحمتی محاذ کا مسئلہ بن گئی۔
عرب کے بہادر سردار کی تعبیر کیوں معنی خیز ہے؟
اس پس منظر میں آیت الله سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے سید حسن نصرالله کے بارے میں حالیہ تعبیر محض ایک شہید کمانڈر کے لیے جذباتی اظہار نہیں ہے؛ بلکہ یہ اس مقام کی عکاسی کرتی ہے جو لبنان اور فلسطین کی مزاحمت کی تاریخ کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی روایت میں انہیں حاصل ہوا ہے۔
رہبرِ انقلابِ اسلامی نے ہفتۂ دفاع مقدس اور سید حسن نصرالله کی شہادت کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہیں «عرب کا بہادر امیر» اور «مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت» قرار دیتے ہوئے کہا کہ «نصرت اور فتح، عرب کے بہادر امیر اور مزاحمتی محاذ کی عظیم علامت، عظیم المرتبت شہید جناب سید حسن نصراللہ کے دائمی ساتھی تھے...»
اس تعبیر کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب نصرالله کے کردار کو صرف لبنان کی سرحدوں تک محدود نہ سمجھا جائے۔ حزب الله گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران محض ایک لبنانی فریق سے مزاحمتی محور کے اہم فریقوں میں سے ایک بن گئی اور نصرالله اس عمل میں ایک مرکزی شخصیت تھے۔

اس زاویے سے رہبرِ انقلاب کی روایت میں «عرب کا بہادر امیر» کا لقب ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کا مقام اسرائیل کے ساتھ تنازع میں لبنان کی جغرافیائی سرحدوں سے آگے متعین ہوا۔ وہ ایسی شخصیت تھے جو 2006 کی جنگ کے بعد اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی معروف ترین شخصیات میں سے ایک بن گئے اور 7 اکتوبر کے بعد بھی غزہ کی حمایت کو حزب الله کے مؤقف اور اقدامات کے اہم محوروں میں تبدیل کر دیا۔
نصرالله اور طوفان الاقصیٰ؛ ایک تاریخی باہمی تعلق
اگر ہم طوفان الاقصیٰ کو صرف 7 اکتوبر کی ایک فوجی کارروائی سمجھیں تو اس کے اہم اثرات کا ایک بڑا حصہ نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔ اس واقعے کی تاریخی اہمیت اس سلسلے میں ہے جو اس کے بعد تشکیل پایا: غزہ کی جنگ، لبنان کے محاذ کا فعال ہونا، خطے کے دیگر فریقوں کا تنازع میں داخل ہونا اور فلسطین کے مسئلے کا مشرق وسطیٰ کے اہم ترین سکیورٹی اور سیاسی محوروں میں سے ایک بن جانا۔
اس دوران سید حسن نصرالله ایک حساس مقام پر تھے؛ وہ طوفان الاقصیٰ کے نفاذ کے ابتدائی فیصلے میں شامل نہیں تھے، لیکن اس کے آغاز کے بعد انہوں نے اسے محض ایک فلسطینی مسئلہ نہیں سمجھا۔
ان کے نقطۂ نظر سے غزہ اور فلسطین کا انجام مزاحمت کے دیگر محاذوں کی سلامتی اور مستقبل سے جڑا ہوا تھا۔ اسی لیے حزب الله کارروائی کے اگلے ہی روز تنازع میں داخل ہو گئی اور نصرالله نے بعد کے مہینوں میں فلسطینی مزاحمت کی حمایت کرتے ہوئے ایسا معادلہ قائم کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے اسرائیل کو شمالی محاذ پر دباؤ کا سامنا ہو، تاہم ضروری نہیں کہ ابتدا ہی سے ایک مکمل علاقائی جنگ کی جانب پیش قدمی کی جائے۔
لہٰذا اگر 7 اکتوبر کو فلسطین اور اسرائیل کے تنازع کی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز سمجھا جائے تو 8 اکتوبر بھی اس مرحلے کا آغاز تھا جس میں جنگ کی جغرافیائی سرحدیں اپنی سابقہ اہمیت کھونے لگیں۔
اور شاید اسی زاویے سے نئی تعبیر «عرب کا بہادر امیر» کے معنی کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے: شہید نصرالله طوفان الاقصیٰ کے منصوبہ ساز کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ان اہم ترین شخصیات میں سے ایک کی حیثیت سے تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں جنہوں نے اس کے بعد فلسطینی مزاحمت کی حمایت کو سیاسی حمایت کی سطح سے نکال کر ایک عملی علاقائی معادلے سے جوڑ دیا۔
طوفان الاقصیٰ کے تین سال بعد بھی اس کارروائی کا نام ایک تاریخی سوال کے ساتھ جڑا ہوا ہے: کیا 7 اکتوبر محض ایک فوجی کارروائی تھی یا خطے کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز؟
اس سوال کا جواب خواہ کچھ بھی ہو، ایک ناقابل انکار حقیقت ہے: 7 اکتوبر کے بعد فلسطین کا مسئلہ اور مزاحمتی محاذوں کے درمیان تعلق ایک مختلف مرحلے میں داخل ہوا اور سید حسن نصرالله اس مرحلے کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔
آپ کا تبصرہ